ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / خلیجی خبریں / انجمن ترقی اردو گلبرگہ میں منعقدہ مذاکرہ سے پروفیسر مہیشور ایا و نذر الباری کا خطاب

انجمن ترقی اردو گلبرگہ میں منعقدہ مذاکرہ سے پروفیسر مہیشور ایا و نذر الباری کا خطاب

Sun, 05 Aug 2018 00:07:08    S.O. News Service

گلبرگہ:4/ اگست (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) مدرسہ محمود گاوان ، بیدراپنے دور کے اعلیٰ معیاری جامعات میں شمار کیا جاتا ہے جہاں ممتاز ریاضی دان محمود گاوان نے دنیابھرکے مختلف ممالک سے مختلف شعبہ ء حیات کے ماہرین کو یہاں مقرر کیا اور دنیا کی اس وقت کی بڑی یونیورسٹی کی حیثیت رکھنے والا یہ مدرسہ محمود گاوان دنیا بھر سے تشنگان علم و ادب کے لئے اپنی پیاس بجھانے کے اہم ترین مرکز بن گیا ۔ ان خیالات کا اظہار پروفیسر مہیشور ایا وائیس چانسلر کرناٹک سنٹرل یونیورسٹی گلبرگہ نے انجمن ترقی اردو ہند شاخ گلبرگہ اور حیدرآباد کرناٹک جنا پرا سنگھرش سمیتئی کے اشتراک سے منعقدہ عہدبہمنی میں سماجی مساوات کے زیر عنوان ایک مذاکرہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ یہ مذاکرہ حضرت خواجہ بندہ نواز ایواناردو ، گلبرگہ میں منعقد ہوا۔ انھوں نے اس زمانہ کے علوم و فنون کے ماہرین کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ ان کا صدیوں قبل تعمیر کردہ مدرسہ محمود گاواں آج بھی ایک پختہ ستون کی طرح اپنی پوری آب و تاب اور چمک دمک کے ساتھ کھڑا ہے ، جس کا مشاہدہ کرنے کے لئے دنیا بھر سے سیاح یہاں آتے ہیں ۔ انھوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم سائینس کی ترقی پر بجا طور پر فقر کرتے ہیں لیکن آج کی تعمیر کردہ کئی عمارتیں ہم دیکھتے ہیں کہ ان کے افتتاح سے قبل ہی وہ خود بہ خود منہدم ہوجاتی ہیں ۔ یہ محض عدم دیانت داری کی وجہ ہے ورنہ سائینس کے کمالات اور ترقی سے ہمیں انکار نہیں ۔ انھوں نے محمود گاوان کو ایک علم دوست قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس نے اپنے زمانہ میں 100سے زائد غیر معمولی قلمی نسخوں کو اپنی لاءئیبریری میں محفوظ کیا تھا جس کا ذکر بعض محققین نے اپنی کتابوں اور آرٹیکلس میں کیا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ان تمام نایاب نسخوں کی تحقیق کریں ۔ انھوں نے بہمنی سلاطین کو صوفی سنتوں کے نظڑیات پر قائم ایک خوش گوار حکومت قرار دیتے ہوئے کہا کہ صوفی ، سنتوں اور سادھوؤں کا پیام ہمیشہ یہی رہا ہے کہ ہم انسانیت کی بنیاد پر بلا لحاظمذہب و ملت معاشرہ میں امن و یک جہتی کا خوش گوار ماحول بنائے رکھیں ۔ مسٹر مہیشور ایا نے مزید کہا کہ اردو زبان دنیا کی دیگر زبانوں میں سب سے میٹھی ، پر کشش اور ایک بہترین رابطہ کی زبان ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے دیگر زبانوں نے کم عمری کے باوجود اتنی تیزی سے پھلی اور پھولی کہ دنیا کی بڑی زبانوں کے ادب کے مقابلہ میں اس کا سرمائیہ ادب بھی قابل قدر ہے اور دنیا میں یہ ترقی یافتہ زبانوں کے شان بہ شانہ چل رہی ہے۔ انھوں نے اس کو بہمنی لسطین کا کارنامہ قراردیتے ہوئے کہا کہ زبان بہمنی سلاطین کی سرپرستی میں ایسی عوامی زبانبن کر عوام کے دلوں پر چھا گئی کہ بلا مبالغہ کنڑا زبان میں بھی آج سینکڑوں الفاظ بالخصوص عدلیہ، مال گزاری اور دیگر محکموں میں اردو اصطلاحات کے کنڑا متبادلات نہیں ہیں ۔ مسٹر لکشمن دستی صدر جنا پرا سنگھرش سمیتی نے کہاکہ ہندوستان کا علاقہ حیدر آباد کرناٹک علم و ادب اور دانشوروں کی آماجگاہ رہا ہے کہ جہاں صوفی سنتوں ، حضرت خواجہ بندہ نواز کی تعلیمات اور شری شرن بسویشور کے وچنوں کی تعلیمات نییہاں کے عوام کو بھائی چارہ اور یک جہتی کا پیغام دیا ۔ یہاں مختلف شعبہ ہائے حیات میں غیر معمولی کارنامے انجام دینے والے عالمی سطح کی کئی شخصیتیں پید اہوئیں جنھوں نے اپنے دور میں سماجی انقلاب پیدا کئے جس کو دنیا بھر نے سراہا گیا ۔ انھوں نے اپنی تقریر کے دوران انجمن ترقی اردو اور سمیتی کی جانب سے لئے گئے تین اہم فیصلوں کا اعلا ن کرتے ہوئے کہا کہ اس علاقہ کی تاریخ کو باضابطہ طور پر پرائیمری سے جامعہ کی سطح تک کے نصاب میں شامل کیا جانا چاہئے ۔ ایک اور فیصلہ کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ گلبرگہ زمانہ قدیم سے ہی مرکزی مقام کا حامل رہا ہے۔ تاہم آزادی کے بعد اس علاقہ کو نظر انداز کئے جانے کے سبب یہ انتہائی پسماندہ ترین علاقہ میں شمار کیا جاتا ہے۔ جس کو انصاف بخشنے کے لئے دستور ہند کی ترمیمی دفعہ 371Jکے ذریعہ خصوصی مراعات دی جارہی ہیں ۔ انھوں نے حکومت سے پر زور مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس علاقہ کے ساتھ ؤاسی وقت مکمل انصاف ہوسکتا ہے جبکہ اسے بنگلور کے بعد ریاست کے دوسرے صدر مقام کا درجہ دیا جائے ۔ انھوں نے کہا کہ ہم ضلع گلبرگہ میں بالخصوص علاقہ حیدر آباد کرناٹک میں عمومی طور پر مدارس اور کالجوں میں اس علاقہ کی تاریخ کو آنے والی نسلوں میں عام کرنے کے لئے تؤوسیعی لیکچرس منعقد کریں گے۔ ڈاکٹر وہاب عندلیت سابق صدر کرناٹک اردو اکیڈمی نے کہا کہ بہمنی سلاطین کی پہلی تاج پوشی دولت آباد میں انجام پائی اور کچھ دنوں بعد انھوں نے اپنا پایہ تخت گلبرگہ منتقل کیا ۔ انھوں نے بہمنی سلاطین میں فیروز شاہ بہمنی کی خدمات کی ستائش کرتے ہوءئے کہا کہ فیروز شاہ بہمنی نے فیروز آباد کے نام سے ایک نیاشہر آباد کیا ۔ اس نے 25سال حکومت کی جو بہمنی سلطنت کا سنہرا دور کہلایا جاسکتا ہے۔ڈاکٹر محمد نذر الباری صدر شعبہ تاریخ کرناٹک سنٹرل یونیورسؤٹی ، گلبرگہ نے کہا کہ حسن گنگو بہمنی کا نام ہی یک جہتی اور بھائی چارہ کا ترجمان ہے ۔ انھوں نے کہا کہ حسن گنگو کے قریب ترین جو رفیق تھے ، گنگا دھر شاستری اانھوں نے انھیں حکومت کی نہایت اہم ذمہ داریاں تفویض کی تھیں ۔تاریخ کے معاملہ میں یہ بات افسوس ناک ہے کہ قائیدین اپنے سیاسی مفادات کے لئے اکثر تاریخ کو توڑ مروڑ کر پیش کرتے ہیں ۔ ہمیں یہ جان لینا چاہئے کہ بادشاہ کا خواہ کسی بھی مذہب سے تعلق ہو اپنی رعایا کے ساتھ اپنے ذاتی عقائد کی بنیاد پر کبھی دباؤ نہیں ڈالتا اور ہم جب تاریخ کا سنجیدگی سے مطالعہ کرتے ہیں تو یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ہمیشہ بادشاہوں نے تمام مذاہب کے ماننے والوں ، ان کے پیش وایا ن اور صوفیوں و سنتوں کی بڑی قدر کی ہے۔ اسی طرح بہنی سلاطین نے بھی صوفیوں کی قدر کی اوراس علاقے میں امن وامان کوفروغ دیا۔مسٹر امجد جاوید صدر انجمن ترقی اردو ہند شاخ گلبرگہ نے کہا کہ عہدہ بہمنی مین سماجی مساوات کے زیر عنوان مذاکرہ کا انعقاد محض ملک کی موجودہ صورت حال کے تقاضوں کے پیش نظر ہے جب کہ ہم چاہتے ہیں کہ ہماری گنگا جمنی تہذیب کا خوش گوار ماحول بنا رہے اور ملک کا پریم کا پیغام دیں ۔ انھوں نے کہا کہ دیگر علوم میں تاریخ انتہائی اہمیت کی حامل ہیکہ أس سے واقفیت کی بنیاد پر ہی ہم ماضی کو پڑھ کر زمانہ حال میں مفید پیش رفت کرتے ہوئے آنے والی نسلوں کو اچھا پیغام دے سکتے ہیں ۔ ڈاکٹر ماجد داغی سیکریٹری انجمن ترقی اردو ہند شاخ گلبرگہ نے مہمانان کا استقبال کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان میں ہندو مسلم اتحاد کا ماضی انتہائی شاندار اور تابناک ہے۔ خصوصیت کے ساتھ گلبرگہ میں عہد بہمنی کے اتحاد و یکجہتی کے مظاہر اس قدر حیات آفرین ہیں کہ ان کی یاد اب بھی مساوات و محبت ، امن و امان ، اؤخوت و بھائی چارہ کے پاکیزہ جذبات اور انسانیت نواز احساسات کو بیدار کرسکتی ہئے۔ انھوں نے کہا کہ آج کا یہ پروگرام اسی جذبہ کوتقویت پہنچانے کے منشا ء و مقصود کے تحت منعقد کیا گیا ہے۔مذاکرہ کا افتتاح پروفیسر مہیشوریا نے شمع روشن کرکے انجام دیاجب کہ مسٹر ولی احمد خازن انجمن ترقی اردو ہند ، شاخ گلبرگہ کے شکریہ پر جلسہ اختتام کو پہنچا۔ 


Share: